Halloween Costume ideas 2015

بدعنوانی کی روک تھام کا قانون

Image result for images - argumentنئی دہلی، شمال مشرقی خطے کی ترقی کےو زیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندرسنگھ نے لوک سبھا میں ایک تحریری سوال کے جواب میں ایوان کو مطلع کیا کہ بدعنوانی کی روک تھام کے قانون 1988 کی دفعہ 13(1) (ڈی) (iii) کے تحت موجودہ تشریح مندرجہ ذیل ہے:

’’13.ایک سرکاری ملازم کے ذریعے مجرمانہ فعل‘‘۔

1-ایک سرکاری ملازم اس وقت مجرمانہ فعل کا ذمہ دار قرار دیا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔
جب وہ ۔۔۔۔۔۔۔

(3)ایک سرکاری ملازم کے طور پر کسی عہدے پر فائز ہونے کے ساتھ وہ کسی شخص سے کوئی مہنگی شے یا مالی منفعت حاصل کرتا ہے اور اس میں سرکار کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔

مذکورہ بالا قانون میں دانستہ جرم کے عنصر کو شامل نہیں کیا گیا ہے اور اس لئے یہ کسی سرکاری ملازم کو رشوت دینے یا اس کے ذریعے کسی بے ایمانی کے روئے تک محدود نہیں ہے ۔ اس سے سرکاری ملازمین کے ذہنوں میں شکوک وشبہات اور خوف پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ سے بنیادی طور پر فیصلہ سازی کے عمل میں سستی آتی اور رکاوٹ پڑتی ہے۔

بدعنوانی کی روک تھام (ترمیمی) بل 2013 ، بدعنوانی کی روک تھام کے قانون 1988 میں ترمیم کے لئے راجیہ سبھا میں 19 اگست 2013 کو پیش گیا تھا۔ اس بل پر عملے ، عوامی شکایات ، قانون اور انصاف سے متعلق پارلیمانی قائمہ کمیٹی کے محکمے نے اپنی 69 ویں رپورٹ اور بھارت کے کے لا کمیشن نے اپنی 254 ویں رپورٹ ، جسے راجیہ سبھا کی چیدہ کمیٹی نے بھی جانچا ہے ، راجیہ سبھا کو 12 اگست 2016 کو پیش کردی ہے۔

بل سے متعلق چیدہ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں جو سفارشات کی تھیں، ان پر حکومت نے غور کیا ہے اور بل میں باضابطہ ترمیمات کی گئی ہیں جیسا کہ راجیہ سبھا کی چیدہ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے۔

اس بل پر 19 جولائی 2018 کو راجیہ سبھا کے 246 ویں اجلاس میں بحث اور منظوری کے لئے پیش کیا گیا۔ اس کے علاوہ یہ بل لوک سبھا میں 24 جولائی 2018 کو 16ویں لوک سبھا کے موجودہ 15ویں اجلاس میں بحث اور منظوری کے لئے پیش کیا گیا۔
Labels:

एक टिप्पणी भेजें

MKRdezign

संपर्क फ़ॉर्म

नाम

ईमेल *

संदेश *

Blogger द्वारा संचालित.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget