Halloween Costume ideas 2015

گزشتہ چار برسوں کے دوران تعلیم کے شعبے کو مستحکم بنانے کے لئے 33 نئے اقدامات کئے ہیں

نئی دلّی ، فروغ انسانی وسائل کے مرکزی وزیر پرکاش جاوڑیکر نے کہا ہے کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران حکومت نے تعلیم کے نظام کو مستحکم کرنے کے لئے 33 نئی پہل قدمیاں کی ہیں ۔ گزشتہ روز نئی دلّی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فروغ انسانی وسائل کے مرکزی وزیر جناب پرکاش جاوڑیکر نے فروغ انسانی وسائل کی وزارت کی گزشتہ چار سال کی کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ سب کے لئے قابل برداشت اور معیاری تعلیم کی فراہمی کے لئے انقلابی تبدیلیاں کی گئی ہیں ۔ 

 جاوڑیکر نے کہا کہ وزیر اعظم  نریندر مودی کی نظریاتی قیادت کے تحت تعلیم کے شعبے میں معیار ، جواب دہی ، مساوات اور قابل استطاعت رسائی کے لئے تبدیلیاں کی گئی ہیں ۔فروغ انسانی وسائل کے وزیر مملکت ،محکمہ ہائر ایجوکیشن ڈاکٹر ستیہ پال سنگھ اور فروغ انسانی وسائل کے محکمہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی جناب اوپیندر کشواہا بھی اس پریس کانفرنس میں موجود تھے ۔
 پرکاش جاوڈیکر نے نئی پہل قدمیوں کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران 103 نئے کیندریہ ودیالیہ اور 62 نئے نوودیہ ودیالیہ کھولے گئے ہیں ۔
نیشنل تخمینہ جاتی سروے کو دنیا کے سب سے بڑے تخمینہ جاتی سروے سے تعبیر کرتے ہوئے جناب جاوڈیکر نے کہا کہ اس سروے کے مطابق 3,5 کلاس کے 22 لاکھ طلباء اور دسویں کلاس کے 15 لاکھ طلباء کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ ہر ضلع اور ریاست کا تعلیمی استعداد کا خاکہ وہاں کے وزراء اعلیٰ ، ممبران پارلیمنٹ اور اہلکاروں کی مشاورت سے تیار کیاگیا ہے ۔
فروغ انسانی وسائل کے وزیر نے روک نہ لگانے اور لگاتار آگے بڑھانے کی پالیسی میں تبدیلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کو مفت اورلازمی تعلیم (ترمیمی) بل ، 2017 پہلے ہی پارلیمنٹ میں پیش کیا جاچکا ہے ،مجوزہ ترمیم کے مطابق ریاستیں پانچویں اور آٹھویں جماعت میں طلباء کاامتحان لیں گی ۔ اگر طالب علم دوسری کوشش میں بھی ناکام ہو جاتا ہے تو وہ اسی درجے میں روک لیا جائے گا ۔

 اس سے طلباء کے ذریعے اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کاموقع ملے گا ۔ اساتذہ کی تعلیم کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 14 لاکھ غیر ہنر مند ڈی ای آئی ای ڈی اساتذہ ’’ سوایم ‘‘پلیٹ فارم کے تحت کورس کر رہے ہیں اورپہلے سال کاامتحان کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا ۔
جناب جاوڑیکر نے کہا کہ حکومت نے تعلیمی نصاب کو معقول بنانے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ 37 ہزار افراد نے نصاب کو کم کرنے کے مشورے دیئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ قدرو قیمت کی حامل تعلیم ، تجرباتی تعلیم ، زندگی کے ہنر سے متعلق تعلیم ، ، خلاقی ہنر اورجسمانی تعلیم پر توجہ مرکو زکی جائے ۔ 

انہوں نے کہا کہ سامگرہ شکشا کے تحت ہر سال 20 فیصد بجٹ میں اضافہ کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال 11.4 لاکھ اسکولوں میں 17 ہزار کروڑ روپئے کی لاگت سے 95 ملین طلباء کو تازہ پکا ہوا کھانا فراہم کیا جا رہاہے ۔
جناب جاوڈیکر نے کہا کہ گزشتہ چار سال کے دوران اعلیٰ تعلیم کے محاذپر 141 یونیورسٹیاں ، 14 آئی آئی ٹی، 7 آئی آئی ایم ، 7 آئی آئی ٹی اور ایک این آئی ٹی کھولے گئے ہیں ۔ 

انہوں نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن فائننسنگ ایجوکیشن ( ایچ ای ایف اے ) آئندہ چار برسوں کے دوران 1,0,0,000 کروڑ روپئے فراہم کرائے گا ۔ یہ عمل در آمد 2022 تک ری وٹیلائزیشن انفراسٹرکچر اینڈ سسٹم ان ایجوکیشن ( آر آئی یس ای ) کے تحت ہے ۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں کی خود مختاری کے سلسلے میں انہوں نے کہا کہ آئی آئی ایم بل پاس کیاجا چکا ہے جبکہ گریڈیڈ آٹونومی پہلے ہی 60 سے زائدیونیورسٹیوں کے لئے منظور کی جا چکی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیم کیلئے بجٹ راشٹڑیہ اُچتر شکشا ابھیان (آر یو ایس اے) کے تحت بڑھایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایکدیگرپہل قدمی گلوبل انی شیٹیو فار اکیڈمک نیٹ ورک ( گیان ) کا مقصد تعلیم کی بین الاقوامی کرن ہے ۔58 ملکوں کے 700 پروفیسروں نے اب تک 1,117 کورس منعقد کئے ہیں ۔ 

رواں سال 60 ملکوں سے 800 پروفیسر اس پروگرام کے تحت متعدد پروگرام منعقد کریں گے ۔
 جاوڑیکر نے کہا کہ نیشنل انسٹی ٹیوشنل رینکنگ فریم ورک ( این آئی آر ایف) مکمل ہو چکا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل پہل قدمی سوایم کے تحت 1032 کورس چلائے گئے ہیں ، 20 لاکھ افراد اس پروگرام سے استفادہ کر رہے ہیں ۔ قومی ڈیجیٹل لائبریری کے تحت 17 ملین ڈیجیٹل کتابیں اور رسائل آن لائن دستیاب ہیں ۔32 لاکھ رجسٹرڈ استعمال کنندہ این ڈی ایل کو مفت استعمال کر رہے ہیں ۔ تمام مرکزی یونیورسٹیوں کو مفت وائی فائی کی سہولت حاصل ہے ۔ اب تقریباً 400 یونیورسٹی کیمپس اور دس ہزار کالج وائی فائی کی سہولت سے آراستہ ہیں ۔

Labels:

एक टिप्पणी भेजें

MKRdezign

संपर्क फ़ॉर्म

नाम

ईमेल *

संदेश *

Blogger द्वारा संचालित.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget