Halloween Costume ideas 2015

ہندستان کے انتخابی کمیشن نے موبائل ایپلی کیشن ‘‘سی-ویجل’’ کی شروعات کی ہے تاکہ شہری، ضابطہ انتخاب کی خلاف ورزی کے بار ے میں رپورٹ کرسکیں

نئی دہلی، اعلی انتخابی کمشنر او –پی –راوت نے انتخابی کمشنروں سنیل اروڑہ اور اشوک لاواسا کے ساتھ ملکر سی ویجل نامی ایک موبائل ایپلی کیشن کی شروعات کی ہے تاکہ انتخابات کے دوران مثالی ضابطہ عمل کی کسی خلاف ورزی کی صورت میں شہری اس کی رپورٹ کرسکیں۔

سی- ویجل اینڈرائیڈ ایپلی کیشن ہے جو استعمال کرنے میں بہت آسان ہے۔ یہ صر ف انہی جگہوں پر کام کرے گی جہاں انتخابات کا اعلان کیا جائے گا البتہ اس ایپلی کیشن کا آزمائشی ورژن عوام اور انتخابی عملے کے لئے فراہم ہوگا تاکہ وہ اسے ڈاؤن لوڈ کرسکیں اور اس کی جزویات کے بارے میں آگاہ ہوسکیں اور فرضی اعدادوشمار بھیج سکیں۔ آزمائشی کامکمل ہونے کے بعد اس ایپلی کیشن کو عام کردیا جائے گا تاکہ سبھی لوگ اسے آنے والے اسمبلی انتخابات سے استعمال کرسکیں۔ یہ انتخابات چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، میزورم اور راجستھان کی ریاستوں میں ہونے والے ہیں۔ ان چار ریاستی اسمبلی انتخابات میں اس ایپلی کیشن کا استعمال آزمائشی بنیاد پر ہوگا تاکہ اسے اگلے لوک سبھا کے عام انتخابات میں پوری طرح استعمال کیا جاسکے۔ 

اس ایپلی کیشن کے ذریعہ ایک اینڈرائیڈ اسمارٹ فون ضروری ہے جس میں کیمرہ نصب ہو اور اچھا انٹرنیٹ کنیشن ہو نیز ساتھ ہی ساتھ جی پی ایس کی رسائی بھی ہو۔ یہ فون اینڈرائیڈ جیلی بین اور اس سے بھی اگلے مرحلے کا ہونا چاہئے۔ یہ ایپلی کیشن سبھی تازہ ترین اینڈرائیڈ اسمارٹ فون میں فراہم ہوگی۔ 

‘سی-ویجل’ کسی بھی اس ریاست میں جہاں انتخابات ہونے والے ہیں مثالی ضابطہ عمل (ایم سی سی ) کی خلاف ورزی کی رپورٹ کرنے کے لئے ا ستعمال کیا جائے گا۔ مثالی ضابطہ عمل انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے ساتھ نافذ ہوجاتا ہے اور انتخابات کے ایک دن بعد تک نافذ رہتا ہے۔ اس ایپلی کیشن کے ذریعہ لوگ خلاف ورزی کے واقعات کے بارے میں چند منٹ کے اندر اندر رپورٹ کرسکتے ہیں اور انہیں ان واقعات کا مشاہدہ کرنے کے بعد شکایت کرنے کے لئے ریٹرننگ افسر کے دفتر کی طرف دوڑ لگانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ 

چوکس شہریوں کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے منظر کی تصویر ریکارڈ کرنا ہوگی یا دو منٹ کا ویڈیو بنانا ہوگا۔ اس کے بعد یہ فوٹو یاویڈیو ایپلی کیشن پر اپ لوڈ کیا جائے گا ۔ جگہ کا تعین جغرافیہ سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے نظام کے ذریعہ ایپلی کیشن خود بخود کرلے گی۔ ایپلی کیشن پر کامیابی کے ساتھ تصویر یا ویڈیو بھیجنے کے بعد شہری کو ایک منفرد آئی ڈی فراہم کی جائے گی جس کے ذریعہ وہ اس سلسلہ میں بعد کی کارروائی کے بارے میں اپنے موبائل پر معلومات حاصل کرسکیں گے۔ ایک شہری اس طریقہ پر بہت سے واقعات کی شکایات کرسکتا ہے اور ہر ایک رپورٹ پر اسے ایک علیحدہ منفرد آئی ڈی فراہم کی جائے گی جس کے ذریعہ وہ اس کے پیروی میں کی جانے والی معلومات حاصل کرسکے گا۔ شکایت کنندہ کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔ 

ایک مرتبہ شکایت درج ہونے کے بعد ضلع کنٹرول روم سے اطلاعاتی بیپس فیلڈ یونٹ کو بھیج دی جائیں گی ۔ یہ فیلڈ یونٹ چلتے پھرتے دستوں ، ایک ہی مقام پر موجود نگرانی ٹیموں اور ریزرو ٹیموں وغیرہ پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہر ایک فیلڈ یونٹ کے پاس جی آئی ایس پر مبنی ایک موبائل ایپلی کیشن ہوگی جس کا نام ’سی-ویجل ڈسپیچر’ ہوگا ۔اس کے ذریعہ متعلقہ یونٹ رہنمائی کرنے والی ٹکنالوجی کے ذریعہ متعلقہ جگہ پر پہنچ سکتا ہے اور کارروائی کرسکتا ہے۔ 

فیلڈ یونٹ کی طرف سے کارروائی کئے جانے کے بعد اس کے پیغامات اور متعلقہ معلومات سی ویجل ڈسپیچر کے ذریعہ متعلقہ ریٹرننگ افسر تک اس کی کارروائی اور اس معاملے کو نمٹانے کے لئے اس تک پہنچ جائے گی۔ اگر واقعہ صحیح پایا گیا تو اس کی اطلاع ہندستان کے انتخابی کمیشن کے نیشنل گریوینس پورٹل کو مزید کارروائی کے لئے بھیج دی جائے گی اور چوکس شہری کو ایک سو منٹ کے اندر اندر کی گئی کارروائی کے بارے میں مطلع کردیا جائے گا۔

ا س ایپلی کیشن میں ایسی خصوصیات ہیں جس سے اس کے غلط استعمال کی روک تھام ہوسکے گی۔ اس میں صرف مثالی ضابطہ عمل کی خلاف ورزی کی شکایتیں وصول کی جاسکتی ہیں۔ کسی شہری کی طرف سے کوئی تصویر یا ویڈیو بنائے جانے کے رپورٹ بھیجنے کے لئے پانچ منٹ دیئے جائیں گے۔ غلط استعمال کی روک تھام کے لئے یہ ایپلی کیشن پہلے سے ریکارڈ کئے ہوئے یا پرانی تصویریں یا پرانی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ اس نظام کے ذریعہ کھینچی گئی تصویریں یا ریکارڈ کئے گئے ویڈیوز کو فون گیلری میں نہیں پہنچایا جاسکے گا۔ اس کے علاوہ اس ایپلی کیشن کو صرف انہیں ریاستوں میں استعمال کیا جاسکے گا جہاں انتخابات کا اعلان ہو گا۔ جونہی کوئی شہری انتخابات والی ریاست کی حد سے باہر نکلے گا یہ ایپلی کیشن کام کرنا بند کردے گی۔

اب تک مثالی ضابطہ عمل کی خلاف ورزی کے بارے میں شکایات پر فوری کارروائی نہیں کی جاسکتی تھی جس کی وجہ سے خلاف ورزی کرنے والے کارروائی کرنے والے دستوں سے بچ جایا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ کسی تصویر یا ویڈیو کے نہ ہونے کی صورت میں شکایت کی تصدیق میں رکاوٹ پڑتی تھی۔ اس کے علاوہ خلاف ورزی کے واقعہ کے علاقہ کوجغرافیائی معلومات کی تفصیل مہیا نہ ہونے کے سبب ، فوری طور پر اور صحیح شناخت نہ کرنے کی وجہ سے انتخابی افسران خلاف ورزی کرنے والوں کو پکڑنے سے معذور رہتے تھے ۔ امید ہے نئی ایپلی کیشن ان خامیوں کو دور کردے گی اور فوری شکایات پر عمل درآمد اور اس کے تدارک کے نظام میں مدد گار ثابت ہوگی
Labels:

एक टिप्पणी भेजें

MKRdezign

संपर्क फ़ॉर्म

नाम

ईमेल *

संदेश *

Blogger द्वारा संचालित.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget